Posts

Showing posts with the label Dead Body

Rightful Religion سچا دین

Image
Islam اسلام  أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم English... " لوگو، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے وہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر کوئی نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی دشوار نہیں کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی لدا ہوا نفس اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے پکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصہ بھی بٹانے کے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (اے نبیؐ) تم صرف انہی لوگوں کو متنبہ کر سکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے"(قرآن 35:15,16,17,18) "اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں نہ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے اور نہ زندے اور مردے مساوی ہیں اللہ جسے چاہتا ہے سنواتا ہے، مگر (اے نبیؐ) تم اُن لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو- ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے...

تفسیر قرآن کے اصول

Image
قرآن کی  تعلیم، تشریح و توضیح   قرآن الله نے انسان کی ہدایت کے لیے  رسول الله ﷺ پر نازل فرمایا  تاکہ وہ  لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جائیں اور وہ غور و فکر کر سکیں: فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ ﴿١٢٣﴾ وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ ﴿١٢٤﴾ "… اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا- اور جو میرے "ذِکر"(درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے" (قرآن :20:123,124) بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ﴿٤٤﴾ أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّـهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ﴿٤٥﴾ ت...

میت کے دس حقوق اور قبروں کا احترام

Image
اسلام میں میت اور قبروں کا احترام:  انسان کو الله نے اشرف المخلوقات پیدا کیا ، انسان کی عزت و تکریم موت کے بعد ختم نہیں ہو جاتی- نعشوں اورلاشوں کے بارے میں مختلف مذاہب نے متعدد طریقوں سے احترام کی ہدایات دی ہیں، لیکن ان سب میں احترام کا سب سے بہترین  طریقہ وہ ہے جو اسلام نے اختیار کیاہے، جس میں نہ صرف انسانی میت کو بڑے احترام سے زمین میں دفنانے کا حکم دیاگیاہے بلکہ انسانی میت اور قبر کا بھی احترام لازم قرار دیا،حتی کہ قبرپر بیٹھنا بھی ممنوع ہے-  البدائع میں فرمایا :  لان النبش حرام،  اس لئے کہ قبر اکھاڑنا حرام ہے اور یہ اللہ کا حق ہے۔ احادیث میں میت کی عزت و احترام اور تکلیف کی ممانعت: حدیث پاک ’’لا تسبوا الأموات، فانہم قد افضوا الیٰ ما قدّموا‘‘سے یہ بھی معلوم ہوا ہے ،کہ جناب محمد رسول اﷲ ﷺ نے مردوں کو سب وشتم کرنے، لعن طعن اوربرا سلوک کرنے سے مسلمانوں کو منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ لوگ اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ چکے ہیں،(صحیح بخاری،6516،بروایت حضرت عائشہ صدیقہؓ)،یاد رہے، اس حدیث کا تعلق توہین ِمعنوی سے ہے۔ ’’نہیٰ رسول اﷲ عن المثلۃ‘‘،(صحاح ستہ)۔گویا...

حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش مبارکہ

Image
۱) حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش مبارکہ ترجمہ : سورہ البقرہ 2،آیت259: یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو ایک بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی تو اس نے کہا کہ اللہ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ فرمائے گا، سو (اپنی قدرت کا مشاہدہ کرانے کے لئے) اللہ نے اسے سو برس تک مردہ رکھا پھر اسے زندہ کیا، (بعد ازاں) پوچھا: تو یہاں (مرنے کے بعد) کتنی دیر ٹھہرا رہا (ہے)؟ اس نے کہا: میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں، فرمایا: (نہیں) بلکہ توسو برس پڑا رہا (ہے) پس (اب) تو اپنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیّر (باسی) بھی نہیں ہوئیں اور (اب) اپنے گدھے کی طرف نظر کر (جس کی ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ان) ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کیسے جْنبش دیتے (اور اٹھاتے) ہیں پھر انہیں گوشت (کا لباس) پہناتے ہیں، جب یہ (معاملہ) اس پر خوب آشکار ہو گیا تو بول اٹھا: میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے ۔ استدلال #1: اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش کو سوسال...

حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش مبارکہ

Image
۲) حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش مبارکہ ترجمہ ۔سورہ سبا34،آیت14: پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا حکم صادر فرما دیا تو اْن (جنّات) کو ان کی موت پر کسی نے آگاہی نہ کی سوائے زمین کی دیمک کے جو اْن کے عصا کو کھاتی رہی، پھر جب آپ کا جسم زمین پر آگیا تو جنّات پر ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ غیب  جانتے ہوتے تو اس ذلّت انگیز عذاب میں نہ پڑے رہتے۔  استدلال #2: اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش زمین پر کچھ عرصہ کے لیے موجود رہی جو کہ سڑنے گلنے سے محفوظ رہی۔ لیکن قرآن کریم کی کسی بھی آیت میں یا حضور نبی کریم محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا جس سے ثابت  ہوتا کہ اس لاش کے زمین پر رہنے پر تنقید کی گئی یا منع کیا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کی تروتازہ لاش کا زمین پر کسی خاص مقصد کے لیے رکھنا جائز ہے۔  لہذا ہمارے لیے بھی زمین پر چند شہدائے اسلام کی تروتازہ لاشوں کو رکھنا جائز ہے تاکہ غیر مسلموں کو دکھاکر دین اسلام کی سچائی کے بارے میں مطمئن کرسکیں۔ تجزیہ استدلال #2 : مذکورہ آیت مبارکہ میں واضح ہے کہ : ...