حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش زمین پر رکھنے کی خواہش


حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ) کی نعش زمین پر رکھنے کی خواہش:
استدلال#6:
1. (حضرت) محمدﷺ نے خود یہ خواہش ظاہر کی کہ سید الشہدا ء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش کو زمین پر رکھ دیا جائے تاکہ چرند پرند ان کے جسم کو کھالیں-
2.اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شہدائے اسلام کے جسم کو زمین پر رکھنا جائز ہوگا-
3.حضور ﷺ نے ایسا نہیں کیا تھا اس لیے کہ ان کی بہن اور آپﷺ کی پھوپھی کے دل کوشدید صدمہ پہنچنے اور گریہ زاری کا خوف تھا۔
4.لیکن جن شہدائے اسلام کی لاشوں کو ہم زمین پر رکھیں گے ان کے ورثا کوہم سو فیصد مطمئن کرچکے ہوں گے۔ لہذا یہاں وہ خوف نہ ہونے کی وجہ سے زمین پررکھنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ سنت بھی ہوگا۔
5.کیونکہ محمدﷺ نے محرم الحرام کا صرف ایک روزہ رکھا تھا ۔جب آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہودی بھی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں تو آپﷺ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر آئندہ سال زندہ رہے تو ہم دو روزے رکھیں گے۔ اور آج بھی مفتی حضرات آپ ﷺکی اسی خواہش کو سنت کا درجہ دے کر یہ فتوی صادر کرتے ہیں کہ محرم میں ایک نہیں بلکہ دوروزے رکھنا سنت ہے ۔لہذا ہم بھی محمدﷺ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چند شہدائے اسلام کی لاشوں کا زمین پر رکھنا مذکورہ مقصد کے لیے جائز ہوگا۔



تجزیہ استدلال #6:
"مولانا" اور "عالم" صاحب نے مکمل حدیث بیان نہیں  کیونکہ ان کے موقف  تردید  اس میں شامل ہے(امام ترمذی کہتے ہیںکہ انس کی حدیث حسن غریب ہے) مکمل حدیث :
جامع سنن ترمزی # 1016 صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ‏‏‏‏ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏    لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ حَتَّى يُحْشَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بُطُونِهَا   . قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَةٍ فَكَفَّنَهُ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ رِجْلَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَكُفِّنَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُدْفَنُونَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْهُمْ:‏‏‏‏    أَيُّهُمْ أَكْثَرُ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏النَّمِرَةُ الْكِسَاءُ الْخَلَقُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ خُولِفَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَدِيثُ اللَّيْثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ أَصَحُّ.
مفھوم : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن حمزہ ( کی لاش ) کے پاس آئے۔ آپ اس کے پاس رکے، آپ نے دیکھا کہ لاش کا مثلہ ۱؎ کر دیا گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں برا نہ مانتیں تو میں انہیں یوں ہی ( دفن کیے بغیر ) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ درند و پرند انہیں کھا جاتے۔ پھر وہ قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «نمر» ( ایک پرانی چادر ) منگوائی اور حمزہ کو اس میں کفنایا۔ جب آپ چادر ان کے سر کی طرف کھینچتے تو ان کے دونوں پیر کھل جاتے اور جب ان کے دونوں پیروں کی طرف کھینچتے تو سر کھل جاتا۔ مقتولین کی تعداد بڑھ گئی اور کپڑے کم پڑ گئے تھے، چنانچہ ایک ایک دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفنایا جاتا، پھر وہ سب ایک قبر میں دفن کر دیئے جاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بارے میں پوچھتے کہ ان میں کس کو قرآن زیادہ یاد تھا تو آپ اسے آگے قبلہ کی طرف کر دیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مقتولین کو دفن کیا اور ان پر نماز نہیں پڑھی-
۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے انس کی روایت سے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کی روایت میں اسامہ بن زید کی مخالفت کی گئی ہے۔ لیث بن سعد بسند «عن ابن شهاب عن عبدالرحمٰن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله بن زيد» ۳؎ روایت کی ہے اور معمر نے بسند «عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة عن جابر» روایت کی ہے۔ ہمارے علم میں سوائے اسامہ بن زید کے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے زہری کے واسطے سے انس سے روایت کی ہو، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لیث کی حدیث بسند «عن ابن شهاب عن عبدالرحمٰن بن كعب بن مالك عن جابر» زیادہ صحیح ہے، ۴- نمرہ: پرانی چادر کو کہتے ہیں۔
الله نے اپنا کلام آپ نازل کیا اور آپ نے الله کا پیغام امت  کو بغیر کمی بیشی کے مکمل طور پر  پہنچا دیا- آخری خطبہ حج می بھی آپ نے لوگوں سے استسفار کے کہ کیا آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تو لوگوں نے اقرار کر کہ شہادت دی- میت کو دفن کرنا اور میت کے دس حقوق قرآن سنت سے ثابت  ہیں جن پر صحابہ اکرام اور امت ١٤٠٠ سال سے عمل  پیرا ہے -
حضرت حمزہ (رضی  الله)جو آپ کے چچا تھے ان کی میت کا کفار مکہ نے مثلہ کیا تھا ، جس کا آپ کو بہت غم اور افسوس تھا- اس کیفیت میں آپ نے جو کچھ فرمایا وہ ایک حالت غم میں ایک  انسانی رد عمل تھا، جو دین  شریعت  کی بنیاد نہں، بلکہ آپ کا وہ عمل سنت ہے جو آپ نے حضرت حمزہ (رضی  الله) اور دوسرے شہداء کی میتوں کے ساتھ کیا یعنی ان سب کو دفن کیا جس کی تفصیل اسی مذکورہ حدیث میں موجود ہے- اس کے بعد بھی تسلسل سے میتوں کو ہمیشہ قبر میں دفن کیا جاتا ہے- یہی شریعت ہے-
فرمانِ رسالت مآب ﷺ ہے : ” انما انا بشر اذا امرتکم بشئ من دینکم فخذوا به و اذا امرتکم بشئ من رائ فانما انا بشر۔”
مفہوم :” بلاشبہ میں انسان ہوں اگر میں دین میں کسی بات کا حکم دوں کو اسے مضبوطی سے تھام لو ، لیکن اگر اپنی رائے سے فیصلہ دوں تو میں انسان ہی ہوں۔” (صحیح مسلم ٦٠٢٢، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ  ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)
اسی طرح ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
” انما ظننت ظنا و لا تواخذنی باظن و لکن اذا حدثتکم عن الله شیئاً فخذوا به فانی لم اکذب علی الله۔”
مفھوم : ” میں نے ایک گمان کیا تھا ، اس لیے میرے گمان پر نہ جاؤ لیکن جب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات کہوں تو اس کو لازم پکڑو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ  ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)
مزید وضاحت :
قرآن  اور روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام بھی شرع بیان کرنے کے لیے کیا ہے وہ حق ہے، حجت ہے، وحی ہے اور قابل اتباع ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کا ہر قول کسی شرعی حکم کو بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ بعض اوقات آپ ہماری طرح دنیاوی اُمور میں بھی گفتگو کرتے تھے اور آپ کایہ کلام کسی شرعی حکم کے استنباط کے لیے مصدر کی حیثیت نہیں رکھتا ہے ۔الدکتور عبد الکریم زیدان لکھتے ہیں :
شاہ ولی اللہ صاحب کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اقوال جو تبلیغِ رسالت کے باب سے نہیں ہیں(یعنی دنیاوی امور سے متعلق ہیں) ، بعض حضرات کے مناقب سے متعلق اقوال،طب سے متعلق بعض اقوال ،آپ کے دور میں کسی جزئی مصلحت کے حصول کے لیے آپ کے جاری کردہ احکامات،آپ کے عادی امور، آپ کے فیصلے(یعنی قضاء) اور آپ کے بعض احکامات کا آپ کی قوم کے بعض لوگوں کے لیے خاص ہوناوغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔
شاہ صاحب نے اس موقف کی دلیل کے طور پرکہ آپ کاہر قول ہمارے لیے شریعت نہیں ہے، ایک حدیث کو بیان کیا ہے۔حضرت خارجہ بن زید بن ثابت سے روایت ہے:
آپ نے فرمایا کہ:
"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَاتَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلہِ"۔(مشکوٰۃ شریف:۲۹)”
میں تمہارے درمیان دوچیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہے۔ “
قرآن میں کہیں میت کو دفن نہ کرنے کا حکم ہے بلکہ دفن کرنا ہے(قرآن؛ 5:31، 80:21) ، سنت میں یہی ثابت اور مذکورہ حدیث میں بھی شہداء کو دفن کرنا ثابت ہے تو پھر آپ  ﷺ کے حالت غم میں الفاظ کو سنت کیسے کہ سکتے ہیں جن پر آپ نے خود بھی عمل نہیں کیا؟ ایک حسن غریب حدیث کے الفاظ کہ؛ ”اگر صفیہ ( حمزہ کی بہن ) اپنے دل میں برا نہ مانتیں تو میں انہیں یوں ہی ( دفن کیے بغیر ) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ درند و پرند انہیں کھا جاتے۔ پھر وہ قیامت کے دن ان کے پیٹوں سے اٹھائے جاتے“... کیا رسول اللہ  ﷺ کسی حکم الہی کو تبدیل کر دیتے کہ کوئی عزیز خاتون کو برا محسوس ہو گا؟ یہ قرآن اور رسول الله کی شان و مرتبہ کے خلاف ہے- پس وہ الفاظ حالت رنج میں آپ کا "ظن" ہو سکتا ہے ، جس طرح کا ذکر آپ نے ایک حدیث میں کیا جو پہلے بیان کی گئی -
لہٰذا : ''اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال صرف اُس وقت مصدرِ شریعت ہوں گے جب ان سے آپ کامقصود احکامِ شرعیہ کو بیان کرنا ہو۔لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دنیاوی امور کے بارے میں کچھ گفتگوایسی فرمائی جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہ ہو تو آپ کا ایسا کلام احکامِ شرعیہ کے لیے کوئی دلیل نہیں بنے گا اور نہ ہی وہ مصدر شریعت ہو گاکہ جس سے احکام نکالے جائیں،اور نہ ہی آپ کے ایسے اقوال کی پیروی لازمی ہے-"
اس سے یہ استدلال کرنا کہ شہداء کی میتوں  کو دفن نہ کرنا قرآن و سنت کے برخلاف ہے-
محرم الحرام کا روزہ:
کیونکہ محمدﷺ نے محرم الحرام کا صرف ایک روزہ رکھا تھا ۔جب آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہودی بھی دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں تو آپﷺ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اگر آئندہ سال زندہ رہے تو ہم دو روزے رکھیں گے۔ یہ  خواہش یہودیوں سے فرق قائم کرنے کے لیے تھی،  اس خواہش پر آپ  ﷺ فوری طور پر عمل نہ کر سکتے تھے، اگلے محرم تک انتظار کرنا پڑتا-  مگر حضرت حمزہ رضی الله کی میت کو اگر آپ چاہتے تو نہ دفن کرتے مگر دفن کیا- صحابہ اکرام کا اجماع محرم کے روزہ پر ہوا اور آپ کی خواہش شریعت کا حصہ بن گیئی کیونکہ آپﷺ کا فرمان ہے :
” فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بعدی فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)
” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔  پس میری سنت اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں )  نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)
لہٰذا ثابت  ہوا کہ میت کو قرآن و سنت کے مطابق دفن کرنا ضروری ہے اس کے برخلاف جو عمل ہو گا وہ ضلالت اور گمراہی ہے :
تفسیر القرآن بعقل سلیم :
عقل سلیم کی اہمیت وضرورت سے کسی کو انکار نہیں ،دنیا کے ہر کام میں اسکی اہمیت ہوتی ہے اور پچھلے مآخذ سے فائدہ اٹھانا بغیر عقل سلیم کے معتبر نہیں- اہل علم نے اس معاملہ میں یہ اصول ضرور بتلایا ہے کہ عقل سلیم کے ذریعہ مستنبط ہونے والے وہی مسائل اور معارف معتبر ہوں گے جو سابق مآخذ سے متصادم نہ ہوں، یعنی ان سے نہ ٹکراتے ہوں، اصول شرعیہ کے خلاف کوئی نکتہ آفرینی کی جائے تو اسکی کوئی قدر وقیمت نہ ہوگی۔
تفسیر بالرائے:
"مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ"۔ جو شخص قرآن میں بغیر علم کے گفتگو کرے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ "مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأ"۔ جو شخص قرآن کے معاملے میں (محض) اپنی رائے سے گفتگو کرے اور اس میں کوئی صحیح بات بھی کہہ دے تب بھی اس نے غلطی کی۔ [ ترمذی،باب ماجاء فی یفسر القرآن ،حدیث نمبر:2874۔ ابو داؤد،الکلام فی کتاب اللہ بغیر علم،حدیث نمبر:3167]
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا بشر بن السري، حدثنا سفيان، عن عبد الاعلى، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ " من قال في القرآن بغير علم فليتبوا مقعده من النار "، ‏‏‏‏‏‏قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث حسن صحيح.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بغیر علم کے (بغیر سمجھے بوجھے) قرآن کی تفسیر کی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ [ترمذی،حسن صحیح ۔ حدیث نمبر: 2950]
مرزا قادیانی کی  تفسیر بالرائے کا انجام :
مرزا قادیانی نے یہ قبیح حرکت کی قرآن میں "خَاتَمَ النَّبِيِّينَ" کی تشریح اور معانی تفسیر بالرائے کرتے ھوۓ اپنی مرضی سے قرآن ،سنت ، احادیث اور  لغت  عربی  کے برخلاف مطلب نکالا تاکہ وہ اپنی جھوٹی نبوت کا جواز قرآن کی تحریف (معانی) سے حاصل کر سکے-  سیاق وسباق اور لغت  قطعی طور پر اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ خاتم النبییّن کے معنی سلسلۂ نبوّت کو ختم کر دینے والے ہیں، کہ حضورؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ عرنی لغت اور محاورے کی رُو سے ’’ ختم‘‘ کے معنی مُہر لگانے ، بند کرنے ، آخر تک پہنچ جانے ، اور کسی کام کو پورا کر کے فارغ ہو جانے کے ہیں۔   اس بنا پر تمام اہل لغت اور اہل تفسیر نے بالاتفاق "خاتم النبییّن" کے معنی "آخر النبییّن"  کے لیے ہیں۔ عربی لُغت و محاورے کی رُو سے خاتم کے معنیٰ ڈاک خانے کی مُہر کے نہیں ہیں (جس طرح قادیانی تفسیر کرتے ہیں) جسے لگا لگا کر خطوط جاری کیے جاتے ہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ مُہر ہے جو لفافے پر اس لیے لگائی جاتی ہے کہ نہ اس کے اندر سے کوئی چیز باہر نکلنے  نہ باہر کی کوئی چیز اندر جائے۔(تفہیم القرآن سے اقتباس)
جو شخص بھی مرزا قادیانی کی طرح اپنی مرضی سے قرآن کی تفسیر، تاویل یا  ایسا ترجمہ کرے گا یا ایسی رائے کا اظہار کرے جو قرآن وسنت کے خلاف ہو تو اس کا انجام اس دنیا میں بھی  برا ہو گا ، آخرت کا معاملہ اس حدیث سے واضح ہے:
”جس نے بغیر علم کےقرآن کی تفسیر کی، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔[ترمذی حسن صحیح]

………………………………………………….
انڈکس 

  1. فتنہ- لاشوں پر تبلیغ
  2. معجزات اور قرآن
  3. قرآن اور عقل و استدلال
  4. تفسیر قرآن کے اصول 
  5. میت کے دس حقوق وفرائض
  6. انبیاء و شہداء کی حیات بعد الموت
  7. بدعت ضلاله

استدلال باطلہ کا استرداد:
    1. حضرت عزیر علیہ السلام کی سو سالہ موت اور زندگی 
    2. حضرت سلیمان علیہ السلام کی  میت 
    3. قبر کھدائی
    4. انسانی ذات میں معجزات 
    5. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین میں تاخیر 
    6. حضرت حمزہ (رضی  الله) کی میت
    7. جوتے اتار کر نماز اور داڑھی
    8. لاشوں پر تبلیغ کا اجتہاد؟

    Comments

    Popular posts from this blog

    End of age of Miracles on demand, Islam is religion of rationality and wisdom

    معجزات کے دور کا اختتام اور عقل ، حکمت و دانش سے پہچان حق

    نیا فتنہ : لاشوں سے تبلیغ