جوتے پہنن کر نماز پرھنے کی سنت کی خلاف ورزی اور داڑھی


۷) جوتے پہننے کی سنت کی خلاف ورزی
یہودی چونکے ننگے پیر نماز پڑھتے ہیں اس لیے ان کی مخالفت کے سبب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر بھی نماز پڑھی اور ایسا کرنا سنت ہے۔ (ابو دائود652،صحیح البانی، صحیح ابی دائود607)۔جب ڈاڑھی رکھنے کو واجب قرار دیا گیا اور مشرکین کی مخالفت کے تحت اب تک اس پر اتنا زور دیا جاتا ہے تو جوتے پہن کر نماز پڑھنے پر زور کیوں نہیں دیا جاتا؟  لہذا جب شریعت کے عمل جائز ہے تو اسی طرح لاش کا نہ دفنانا بھی جائز ہے ۔
تجزیہ استدلال #7  
ایک روایت میں ہے: عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رضی الله عنه عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا.
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ ان کے والد ماجد ان کے جد امجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگے پاؤں اور نعلین مبارک پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۔ [أبي داود، السنن، 1: 176، رقم: 653، ابن ماجه، السنن، 1: 330، رقم: 1038، بيروت: دار الفکر]
رسول اللہﷺ نے فرمایا:''جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد کی طرف آئے تو وہ دیکھے اگر اس کے جوتوں میں کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو تو اسے صاف کرے اور ان میں نماز پڑھے ۔
(ابو داود:٦٥٠اس حدیث کو امام ابن خزیمہ : (٧٨٦)ابن حبان (٢١٨٥)اور عبدالحق الاشبیلی
(کذا فی تفسیر قرطبی:١١/١٥٧)اور امام منذری (کذا فی عون المعبود :تحت شرح حدیث:٣٨١)
نے کہا صحیح ہے اور امام حاکم نے کہا :
حدیث صحیح علی شرط مسلم )(مستدرک حاکم) جوتے پہن کر نماز پڑھنا ایک رخصت ہے مگر جوتے کی آڑ میں مسجد میں کا احترام پامال کرنا درست نہیں ۔جوتے کو بھی دیکھا جائے گا کہ آیا اس کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے سے مسجد کی صفائی کا نظام تو خراب نہیں ہوتا ۔
مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ جوتے پہن کر مسجد میں نماز ادا کی جا سکتی ہے لیکن آج کل مسجدوں میں چمکدار ٹائلیں اور بہترین قسم کے قالین بچھے ہوئے ہوتے ہیں جن پر جوتے پہن کر چلنے سے صفائی رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ لہٰذا آج کل مسجد میں جوتے پہن کر نماز پڑھنا مناسب نہیں ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے گھر کو بھی باقی عمارتوں سے زیادہ صاف اور ستھرا رکھا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک اتار کر نماز پڑھنے کی شاید حکمت بھی یہی تھی کہ زمانے گزر جانے کے بعد وقت کی ضرورت کے مطابق کوئی تبدیلی بھی آئے تو عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنت سے محروم نہ رہیں۔
داڑھی رکھنا اور جوتوں میں نماز پڑھنا دو مختلف مسائل ہیں- داڑھی کا معامله سنت کا ہے اس میں دو رائے نہیں- جوتوں اور جوتوں کے بغیر تماز پڑھنا آپ سے ثابت ہے- داڑھی نہ رکھنے خلاف سنت ہے- اس کو لاش کو دفن کرنے کی حجت کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
میت کو قبر میں دفن کرنے کا حکم بھی الله کا ہے( قرآن،5:31،80:21). اس فرض کو تسلسل سے رسول الله  صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمایا اور ١٤٠٠ سال سے امت مسلمہ اس پر عمل کر رہی ہے- ١٤٠٠ سال میں ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ کسی مومن کی میت کو جان بوجھ کر نہ دفنایا گیا ہو- مسلمان الله اور رسول کے حکم اور تعلیمات کی خلاف درزی کا سوچ بھی نہیں سکتے-  میت کے دس حقوق قرآن  سے ثابت ہیں جن پر مسلمان عمل کرتے ہیں-
میت کو غسل دینا،تکفین کرنا، نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا،ایک معزز مہمان کو رخصت کرنے کی طرح لاش کے ساتھ احتراماً جنازہ گاہ اور قبرستان جانا،قبر کی تیاری میں کام کرنا، لاش کی نہایت ادب واعزاز کے ساتھ تدفین کرنا،اس کے لئے دعائیں کرنا،ایصالِ ثواب کرنا،وقتاً فوقتاً زیارت قبور کے لئے جانا، میت کی قبر اور اس کے اعضاء کا احترام کرنا۔لاش اور میت کے یہ دس حقوق قرآن وسنت سے بڑی تفصیل کے ساتھ ثابت ہیں ، تفصیل کے لئے احکام ِمیت، کتاب الجنائز ، حقوقِ میت اور فتاویٰ القبور کو دیکھا جاسکتا ہے۔
لاش کو دفن نہ کرنا قرآن و سنت کے خلاف ہی-

………………………………………………….
انڈکس 

  1. فتنہ- لاشوں پر تبلیغ
  2. معجزات اور قرآن
  3. قرآن اور عقل و استدلال
  4. تفسیر قرآن کے اصول 
  5. میت کے دس حقوق وفرائض
  6. انبیاء و شہداء کی حیات بعد الموت
  7. بدعت ضلاله

استدلال باطلہ کا استرداد:
    1. حضرت عزیر علیہ السلام کی سو سالہ موت اور زندگی 
    2. حضرت سلیمان علیہ السلام کی  میت 
    3. قبر کھدائی
    4. انسانی ذات میں معجزات 
    5. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین میں تاخیر 
    6. حضرت حمزہ (رضی  الله) کی میت
    7. جوتے اتار کر نماز اور داڑھی
    8. لاشوں پر تبلیغ کا اجتہاد؟


    Comments

    Popular posts from this blog

    میت کے دس حقوق اور قبروں کا احترام

    معجزات کے دور کا اختتام اور عقل ، حکمت و دانش سے پہچان حق