Skip to main content

نیا فتنہ : لاشوں سے تبلیغ



  • تبلیغ و دعوه ہر مسلم کا فریضہ ہے کیونکہ اب کوئی نبی نہیں آیئے گا، تا قیامت یہ ذمہ داری مسلمانوں کی ادا کرنا ہے- ہرمسلمان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ دین حق ، اسلام کی تبلیغ کرے اور زیادہ سے زیادہ انسانوں تک الله کا پیغام پہنچا کر ان کو راہ ہدایت پر لا کر اسلام کے دائرۂ میں داخل کرے- اسلام نے تبلیغ کا طریقه  اور اصول تفصیل سے سمجھا دیئے ہیں، جس کی بنیاد حکمه اور اچھی مدلل گفتگو یا ڈائلاگ ہے :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ (النحل۱۲۵)

" لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔"
.................................
قرآن اور عقل و استدلال : قرآن ۶۰ سے زیادہ مقامات پر عقل و فکر، شعور و تدبر اور آگاہی و بصیرت کی بات کرتا ہے اور ایسا دنیا کی کسی اور مذہبی کتاب میں نہیں ملتا۔ کسی بھی مذہبی کتاب میں عقل و برہان پر اتنا زور نہیں دیا گیا جب کہ قرآن اپنے مخالفین کو واضح طور پر برہان لانے کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو دلیل و برہان پیش کرو(ھَاتُوا بُرھَانَکُم اِنکُنتُم صٰدِقِینَ ) قرآن کا اتنا زیادہ عقل و منطق اور غوروفکر پر زور دینے کاایک مطلب یہ سمجھانا بھی ہے کہ عقل استعمال کرنے کا وہاں پر ہی کہا جاتا ہے جب کوئی چیز نظر نہ آتی ہو اور اس کے ظاہر سے باطن کی طرف عقل کے ذریعے سفر کرنے کی ضرورت ہوتی ہو۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن ہمیں ظاہر سے اوپر اٹھ کر اور ظاہر پرستی کو چھوڑ کر گہرائیوں میں جا کر حقائق تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔  اسلام میں غوروفکر یعنی تفکر کو اہم ترین عبادت قرار دیا گیا ہے اور[.... Keep reading ...]

Quran repeatedly emphases and urge the people to use their intellect to understand its message. Blind faith without reason is faith of ignorants. Islam is a religion without any mythology. Its teachings are simple and intelligible. It is free from superstitions and irrational beliefs. The oneness of God, the prophet-hood of Muhammad (pbuh), and the concept of life after death are the basic articles of its faith. They are based on reason and sound logic. All of the teachings of Islam flow from those basic beliefs and are simple and straightforward. There is no hierarchy of priests, no farfetched abstractions, no complicated rites or rituals. Islam awakens in man the faculty of reason and exhorts him to use his intellect... [Keep Reading .....]
...................................

اسلام ایک مکمل دین ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے جس پرخلفاء راشدین اور صحابہ اکرام نے عمل کیا جس کی تمام تفصیلات متواتر ، تسلسل سے نسل در نسل تحریری، عملی اور زبانی روایت سے ہم تک محفوظ طریقہ سے پہنچی ہیں- وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں تبدیلی کی وجہ سے اسلام کی بنیاد میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں مگر کسی نئی سیچوایشن کوجس کی مثال براہ راست قرآن و سنت سے نہ مل سکے تو علماء اسلامی اصولوں کے اندر رہتے ہوے اجتہاد کر کہ حل نکالتے ہیں- مگر ایسا حل قرآن و سنت کے خلاف نہ ہو جو کوئی قرآن و سنت کے خلاف عمل کرے گا وہ عمل باطل ، فتنہ و فساد اور اسلام سے باہر ہو گا-

آج کا دور انٹرنیٹ کا ہے، معلومات تک ہر ایک کی رسائی ہے- بہت لوگ ان  سطحی معلومات کی بنیاد پراسلام کے نام پر نئی نئی تجاویز پیش کرتے ہیں- کوئی شخص طب کی کتب پڑھ کر ڈاکٹر نہیں بن سکتا نہ ہی انجنرنگ کی کتب پڑھ کر انجینئیر بن سکتا ہے- دین کی کتابیں پڑھ کردین کی کچھ سمجھ بوجھ  تو حاصل ہو سکتی ہے مگر ایسا شخص عالم دین یا مفتی و مجتہد ہرگز نہیں بن سکتا ہے

شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے جو ہر وقت گھات میں ہوتا ہے، عام مسلمان تو اس کے نشانہ پر ہوتے ہیں مگر کچھ "مولانا اورعالم" بھی اس کے نرغے میں آ جاتے ہیں اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں- وہ گمراہ ہو کر نیے فرقہ کی بنیاد رکھ دیتے ہیں- اپنے محدود علم یا خواہش نفس کیتسکین کے لیۓ نئی نئی تاویلیں گھڑھ لیتے ہیں- وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور عوام جن کو دین کا زیادہ علم نہیں ہوتا ان کو بھی گمراہی کے راستہ پرڈال  دیتے ہیں-

اگر کسی کو قرآن و سنت سے کوئی نئی بات سمجھ آتی ہے تو بجایے اس کا پرچار کرنے کے مستند علماء ، اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد ، کسی دارلعلوم سے رابطہ کرکہ ان سے ڈسکس کرے، جب تسلی ہو تو پھر اگلا قدم اٹھا یے- انسان سے غلطی ہو سکتی ہے، قرآن و سنت اور دین کے معامله میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے-  گمراہ کن نظریات اپنی اور دوسروں کی دنیا و عاقبت کی بربادی کا با عث بن سکتے ہیں- 

ایک صاحب جو اپنے نام کے ساتھ "مولانا" اور "عالم"لکھتے ہیں ان سے فیس بک پر امنا سامنا ہوا- وہ شہداء کی میتوں کی نمائش سےاسلام کی تبلیغ کرنا جائز سمجھتے ہیں اور اس کا پرچار کر رہے ہیں- ان کو قرآن و سنت سے دلائل دیے مگر وہ اپنی ضد پر قائم ہیں- مناسب سمجھا کہ ان کے گمراہ کن نظریات کے سد باب اور مسلمانوں کو گمراہی سے بچانے کے لیے کچھ کیا جائے، لہٰذا یہ کوشش آپ کی خدمت میں پیش ہے- 


"مولانا /عالم" صاحب کا نظریہ:
 شہدائے اسلام کےچند تروتازہ اجسام کو زمین کے اوپر کافروں کو مطمئن کرنے کے لیے رکھنا قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے -

 یہ ایک حقیقت ہے کہ شہدائے اسلام کے اجسام موت کا ذائقہ چکھنے کے بعد صدیوں سے خون سمیت تروتازہ حالت میں قبروں کے اندر صحیح و سالم اور تروتازہ حالت میں موجود ہیں ۔ یہ اجسام دنیا والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اسکی قدرت کو کافروں پر ثابت کرنے کے لیے ایک فطری، غیر جانبدار اور قابل مشاہدہ معجزہ یعنی اللہ کی قدرت پرواضح نشانی اور ثبوت ہے- 

اگر چند شہدائے اسلام کے اجسام زمین کے اوپر رکھ دیے جائیں اور دنیا بھر کے کافروں کو دعوت عام دے دی جائی تو وہ اس نشانی کو آنکھوں سے دیکھ کران شاء اللہ ضرور مطمئن ہوں گے اور جنہیں ہدایت کی تلاش ہے اجسام شہدا کے ذریعے انہیں ہدایت نصیب ہوگی۔

قرآن و سنت کی روشنی می ںشہدائے اسلام کے اجسام زمین کے اوپر رکھنا بالکل جائز ہے۔اس کی دلیل میں چند باتیں پیش کررہا ہوں۔

استدلال :
۱) حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش مبارکہ

۲) حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش مبارکہ

۳) زمین کھود کر نشانی نکالنے کی دعوت

۴) اللہ انسان کی ذات میں نشانیاں دکھائے گا

۵) حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک انتقال کے بعد دودن زمین پر

۶) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش زمین پر رکھنے کی خواہش

ۧ۷) جوتے پہننے کی سنت کی خلاف ورزی


۸) اجتہاد
-----------------------------
تجزیہ - خلاصہ 

ہر ایک استدلال کا انفرادی طور پر مفصل تجزیہ کیا گیا جو آخر میں لنکس پر مہیا ہے - یھاں  پر اہم پوائنٹس کا خلاصہ پیش ہے-
کوئی  نارمل مسلمان جس نے تاریخ انسانی اور قرآن و سنت کا عام سرسری سا مطالعہ بھی کیا ہوتو وہ شہداء کی میتوں کی بے حرمتی جیسی فضول بات کرنا تو دور کی بات ایسا سوچ بھی نہیں سکتا- ایسی تجویز یا عمل جو قرآن و سنت کے واضح احکامات کے  برخلاف ہو وہ بدعت ضلاله اور اسلام میں فتنہ و فساد ہے- باطل بیانیہ .(نیا فتنہ ) کے رد سے پہلے ضروری ہے کہ قرآن و سنت سے واضح کیا جائے کہ “میت کا احترام و تدفین” کوئی نا معلوم اجتہادی معاملہ نہیں بلکہ فرض ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے ، اس میں مسلمانوں کو کو شک و شبہ نہیں مگر شیطان گمراہ کرنے کے لیے، آگے پیچھے ، اوپر اور نیچے سے وار کر تا ہے- مکمل دین میں وسوسے پیدا کرتا ہے :

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ

آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیےاسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے(قرآن 5:3)
دین کو مکمل کر دینے سے مُراد، اس کو ایک مستقل نظامِ فکر و عمل اور ایک ایسا مکمل نظامِ تہذیب و تمدّن بنا دینا ہے جس میں زندگی کے جُملہ مسائل کا جواب اُصُولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ (تفہیم القرآن)

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴿٧﴾
جو کچھ رسولؐ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے (سورة الحشر 59:7)
آپ نے فرمایا کہ:
"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَاتَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلہِ"۔(مشکوٰۃ شریف:۲۹)”
میں تمہارے درمیان دوچیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہے۔ “


رسول اللہ ﷺ نے خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنے کا حکم دیا ہے ، اور حضرت عمر رضی الللہ عنہ بلا شبہ خلیفہ راشد تھے۔  فرمان رسالت مآب ﷺ ہے :



” فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بعدی فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔  پس میری سنت اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں )  نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔”  (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)

دینی اور دنیاوی معاملات اور رہنما اصول بھی قرآن و سنت سے واضح کر دیے گنے مگر کیونکہ اسلام تمام انسانیت کے لیے قیامت تک آخری دین ہے اس لیے حالات اورتبدیلی وقت کے ساتھ ساتھ نئی ضروریات کے لیے رہنمائی کے لیے اجتہاد کا طریقه تا قیامت موجود ہے- اجتہاد صرف ان معاملات میں کیا جاتا ہے جہاں قرآن و سنت سے کسی مسلہ پر ہدایت نہ ہوں، مثلا زندگی بچانے کے لیے “انتقال خون” Blood transfusion.  اجتہاد علماء کرتے ہیں اور جب علماء متفق ہوں تو اسے اجماع فقہی کھا جاتا ہے-
اگر کوئی نماز کے طریقه یا رکعت میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرنا چاہے اور تاویلیں کرے تو یہ اجتہاد نہیں تحریف اور ضلاله ہے ، گمراہی ہے- وفات پر مسلمان کو قبر میں دفن کرنے کا حکم قرآن ( 5:31، 80:21) اور سنت سے تواتر میں ثابت ہے اس میں دعوہ اور تبلیغ یکے نام پر تبدیلی قرآن و سنت کی خلاف درزی ہے اجتہاد نہیں- مرزا قادیانی نے “خاتم النبیین” کا مطلب خود نکالا ، کافر اور زندیق قرار پایا- قرآن و سنت سے انکار کفر اور گمراہی ہے، جس سے الله مسلمانوں کو محفوظ رکھے –
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ (22:57)
اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا-
ایک مثال:  دودھ سفید ہوتا ہے اور سنگ مر مر بھی سفید ہوتا  ہے ، لہٰذا یہ تاویل کرنا کہ سنگ مرمر کو دودھ کہہ سکتے ہیں، جہالت اور فاطرالعقل ہونے کی دلیل ہے-اس قسم کی تاویلات اسلام کی توہین ہے-

بدعات ضلاله :
اسلام مکمل دین ہے اس میں کوئی نئی بات شامل کرنا بدعات میں ہے- حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ’’فإنّ کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة’
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”..... اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے“۔
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/العلم ۱۶ (۲۶۷۶)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۶ (۴۳، ۴۴)، (تحفة الأشراف: ۹۸۹۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۲۶)، سنن الدارمی/المقدمة ۱۶ (۹۶) (صحیح)
اس حدیث میں ہر اس نئی بات سے جس کی شرع سے کوئی اصل نہ ملے منع کیا گیا ہے، اصول شریعت چار ہیں: قرآن، حدیث، اجماع صحیح اور قیاس شرعی، جو بات ان چار اصول میں نہ ہو وہ بدعت ہے، بدعت دو قسم کی ہوتی ہے: ایک بدعت شرعی دوسری بدعت لغوی، اس حدیث میں بدعت شرعی کا ہی بیان ہے، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بدعت گمراہی ہے-
شہداء کی میتوں کو نمائش کے لیے بطور ثبوت حقانیت اسلام ، نہ دفن کرنا یا قبروں سے نکل کر پیش کرنا ثابت نہیں٠ بلکہ اس کے الٹ ان کی میتوں کو جد از جلد دفن کرنا تسلسل، متواتر ثابت ہے-
 علامہ ابن تیمیہ ’’بدعت حسنہ‘‘ اور ’’بدعت ضلالۃ‘‘ کے مفہوم کو مزید واضح کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں :
ومن هنا يعرف ضلال من ابتدع طريقاً أو اعتقاداً زعم أن الإيمان لا يتم إلا به مع العلم بأن الرسول صلي الله عليه وآله وسلم لم يذکره وما خالف النصوص فهو بدعة باتفاق المسلمين وما لم يعلم أنه خالفها فقد لا يسمي بدعة قال الشافعي رحمه اﷲ البدعة بدعتان بدعة خالفت کتابا و سنة و إجماعا و أثرا عن بعض أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فهذه بدعه ضلاله و بدعه لم تخالف شيئا من ذلک فهذه قد تکون حسنة لقول عمر نعمت البدعة هذه (1) هذا الکلام أو نحوه رواه البيهقي بإسناده الصحيح في المدخل(2)

’’اور اس کلام سے لفظ ’’ضلال‘‘ کا مفہوم سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ جانتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بیان نہیں کیا کسی طریقے یا عقیدے کی ابتداء اس گمان سے کی کہ بے شک ایمان اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تو یہ ’’ضلالۃ‘‘ ہے اور جو چیز نصوص کے مخالف ہو وہ مسلمانوں کے اتفاق رائے کے ساتھ بدعت ہے۔ اور جس چیز کے بارے یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کتاب و سنت کی مخالفت کی ہے ایسی چیز کو بدعت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اور امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ نے بدعت کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ایک وہ بدعت جو قرآن و سنت، اجماع اور بعض اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال کے خلاف ہو تو وہ بدعت ضلالہ ہے۔ اور جو بدعت ان تمام چیزوں (یعنی قرآن و سنت، اجماع اور اثر صحابہ) میں سے کسی کے مخالف نہ ہو تو وہی بدعت حسنہ ہے۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے ’’نعمت البدعۃ ہذہ‘‘ یہ یا اس جیسا دوسرا بیان اسے امام بیہقی نے اپنی صحیح اسناد کے ساتھ ’’المدخل‘‘ میں روایت کیا ہے۔‘‘
مالک، المؤطا، باب ما جاء في قيام رمضان، 1 / 114، رقم : 250، بيهقي، شعب الايمان، 3 / 177، رقم : 3269، سيوطي، تنوير الحوالک شرح مؤطا مالک، 1 / 105، رقم : 250، ابن تيمية، کتب ورسائل و فتاوي ابن تيمية في الفقه، 20 : 16

علامہ ابن تیمیہ (728ھ) بدعتِ شرعی کی تعریف کرتے ہوئے اپنے معروف فتاویٰ ’’مجموع الفتاویٰ (3 : 195)’’ میں لکھتے ہیں :
’’بدعت سے مراد ایسا کام ہے جو اعتقادات و عبادات میں کتاب و سنت اور اَخیارِ اُمت کے اِجماع کی مخالفت کرے جیسے خوارج، روافض، قدریۃ اور جہمیۃ کے عقائد۔’

بدعتِ سیّئۃ (Condemned innovation)
بدعتِ سیئہ سے مراد وہ نیا عمل ہے جو قرآن و حدیث کے مخالف ہو اور اس کی اصل مثال یا نظیر بھی کتاب و سنت میں نہ ہو دوسرے لفظوں میں بدعت سیئہ سے مراد وہ بدعت ہے جو کسی سنت کے ترک کا باعث بنے اور امرِ دین کو توڑے۔ [میت کو نہ دفن کرنا ، یا قبر سے نمائش کے لیے میت باہر رکھنا ، قرآن و سنت سے ثابت میت کے دس حقوق کے خلاف ہے ]
علامہ اسماعیل حقی (1137ھ) بدعت کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بدعت صرف اُس عمل کو کہا جائے گا جو سنتِ رسول یا عملِ صحابہ و تابعین کے خلاف ہو، فرماتے ہیں :
اسماعيل حقی، تفسير روح البيان، 9 : 24
’’بدعت اس فعل کو کہا جاتا ہے جو نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام کی سنت کے خلاف گھڑا جائے ایسے ہی وہ عمل صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے طریقے کے بھی مخالف ہو۔’’
بدعتِ محرّمہ (Forbidden Innovation)
وہ نیا کام جس سے دین میں تضاد، اختلاف اور انتشار واقع ہو یا وہ نئے اُمور جو اُصولِ دین سے متخالف و متناقض ہوں مثلاً نئے مذاہب، جیسے قدریہ، جبریہ، مرجیہ (اور آج کل مرزائی و قادیانی) وغیرہ کا وجود، جبکہ ان مذاہبِ باطلہ کی مخالفت ‘‘بدعتِ واجبہ’’ کا درجہ رکھتی ہے۔
آپ نے فرمایا کہ:“تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَاتَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ رَسُوْلہِ”۔(مشکوٰۃ شریف:۲۹)”میں تمہارے درمیان دوچیزوں کو چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کومضبوطی سے تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہے۔ “” فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بعدی فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ، فَتَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ ۔” (سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)” تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا۔ پس میری سنت اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو ۔ اس سے تمسک کرو اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ خبردار ( دین میں ) نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے۔”
اسی طرح ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
” انما ظننت ظنا و لا تواخذنی باظن و لکن اذا حدثتکم عن الله شیئاً فخذوا به فانی لم اکذب علی الله۔” ” میں نے ایک گمان کیا تھا ، اس لیے میرے گمان پر نہ جاؤ لیکن جب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بات کہوں تو اس کو لازم پکڑو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتا۔”( صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ ما ذکره من معایش الدنیا علی سبیل)
اصل حکم شرعی یہ ہے کہ انتقال کے بعد جلد از جلد میت کی تجہیز وتکفین ارو تدفین کی جائے، بلاکسی خاص وجہ سے تاخیر کرنا درست نہیں ہے؛ تاہم نماز جنازہ سے بہلے میت کا چہرہ دیکھنا کہ جس کی بنا پر تدفین میں تاخیر لازم نہ آئے جائز ہے؛ لیکن نماز جنازہ کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا بہتر نہیں ہے، بسا اوقات میت میں تغیر آجاتا ہے، جس میں ایک مسلمان کے عیب کا افشاء کا خطرہ ہے۔
قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: أسرعوا الجنازة فإن تک صالحةً فخیر تقدمونہا إلیہ، وإن تک سوی ذلک فشر تضعونہ عن عن رقابکم (سنن أپی داوٴد: ۱/۱۵۷) وقال في الہندیة: ویبادر إلی تجہیزہ ولا یوٴخر (الفتاوی الہندیة: ۱/۱۵۷) وعن أنس بن مالک رضي اللہ عنہ قال: قبض إبراہیم بن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، قال لہم النبي صلی اللہ علیہ وسلم: لا تدرجوہ في أکفانہ حتی أنظر إلیہ․ (سنن ابن ماجہ، باب النظر إلی المیت، ص: ۱۰۶) سألتُ یوسف بن محمد عمن یرفع الستر عن وجہ المیت لیراہ، قال: لا بأس بہ (الفتاوی التاتارخانیة: ۳/۷۸، رقم: ۳۷۵۸، زکریا)
(سنن ابی داود ، کتاب السنة ، باب لزوم السنة)
میت کے قبر میں دفنکرنے کے احکام سنت سے واضح ہیں اور ان پر امت کا عمومی اجماع ہے -

دعوہ و تبلیغ اسلام :

دعوه و تبلیغ ہر مسلمان کی ڈیوٹی ہے، کیونکہ اب کوئی نبی نہیں آنا ، ہدایت قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہے –

معجزات کا طریقه ، تبلیغ کے لیئے اللہ نے ختم کر دیا :

وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا﴿٥٩
“اور ہم نے اس لیےمعجزات بھیجنے موقوف کر دیےکہ پہلوں نے انہیں جھٹلایا تھا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی کا کھلا ہوا معجزہ دیا تھا پھر بھی انہوں نے اس پر ظلم کیا اور یہ معجزات تو ہم محض ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں “(17:59)
“ہم نے موسیٰ کو نو معجزے بالکل صاف صاف عطا فرمائے، تو خود ہی بنی اسرائیل سے پوچھ لے کہ جب وه ان کے پاس پہنچے تو فرعون بوﻻ کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو تجھ پر جادو کردیا گیا ہے”(17:101)
“اور ان لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ جائے تو وه ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں سب اللہ کے قبضے میں ہیں اور تم کو اس کی کیا خبر کہ وه نشانیاں جس وقت آجائیں گی یہ لوگ تب بھی ایمان نہ ﻻئیں گے”(6:109)
اللہ کی نشانیاں موجود ہیں ، جو اہل ایمان کے دل مظبوط کرتی ہیں اور جو اللہ کی تلاش میں سچے ہیں –
تبلیغ اسلام کا طریقه صدیوں سے رائج ہے ، تبدیلی صرف سائنسی ایجادات کے استعمال میں ہوئی – پہلے زبانی ،تقریری، تحریری پھر پریس ، ریڈیو ، ٹی وی اور اب انٹرنیٹ کا استعمال ہو رہا ہے- نشر و ابلاغ کے زریعے تبدیل ہوے- تبلیغ کی  بنیاد قرآن و سنت ہے -معجزات کا دور ختم ہوا ، عقل و فہم اور ڈائیلاگ کا طریقه قرآن نے مقرر کر دیا :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿١٢٥﴾
اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے (16:125)
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۱۰۴ [٣:١٠٤]
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں (اٰل عمران:۱۰۴)
مزید پڑہیں ….. … [Continue reading…]

اسلام میں میت اور قبروں کا احترام: 

انسان کو الله نے اشرف المخلوقات پیدا کیا ، انسان کی عزت و تکریم موت کے بعد ختم نہیں ہو جاتی- نعشوں اورلاشوں کے بارے میں مختلف مذاہب نے متعدد طریقوں سے احترام کی ہدایات دی ہیں، لیکن ان سب میں احترام کا سب سے بہترین  طریقہ وہ ہے جو اسلام نے اختیار کیاہے، جس میں نہ صرف انسانی میت کو بڑے احترام سے زمین میں دفنانے کا حکم دیاگیاہے بلکہ انسانی میت اور قبر کا بھی احترام لازم قرار دیا،حتی کہ قبرپر بیٹھنا بھی ممنوع ہے- البدائع میں فرمایا : لان النبش حرام، اس لئے کہ قبر اکھاڑنا حرام ہے اور یہ اللہ کا حق ہے۔

اسلام میں میت کے حقوق :

میت کو غسل دینا،تکفین کرنا، نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا،ایک معزز مہمان کو رخصت کرنے کی طرح لاش کے ساتھ احتراماً جنازہ گاہ اور قبرستان جانا،قبر کی تیاری میں کام کرنا، لاش کی نہایت ادب واعزاز کے ساتھ تدفین کرنا،اس کے لئے دعائیں کرنا،ایصالِ ثواب کرنا،وقتاً فوقتاً زیارت قبور کے لئے جانا، میت کی قبر اور اس کے اعضاء کا احترام کرنا۔لاش اور میت کے یہ دس حقوق قرآن وسنت سے بڑی تفصیل کے ساتھ ثابت ہیں ،جن کو یہاں اختصار کے ساتھ بیان کیا، تفصیل کے لئے احکام ِمیت، کتاب الجنائز ، حقوقِ میت اور فتاویٰ القبور کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مزید .......

تجزیہ :

قرآن و سنت اور تاریخ کے مطالعہ سے جو معلوم ہوتا ہے اس کا خلاصہ اس طرح ہے :
  1. الله اگر چاہتا تو تمام  تمام لوگوں کو راہ ہدایت پر لے آتا مگر اس کا پلان یہ نہیں کہ زبردستی ہدایت دے- ہدایت اس کو ملتی ہے جو خواہش رکھے اور کوشس کرے- مسلمانوں کا کام قرآن و سنت مے مطابق تبلیغ و دعوه کرنا ہے ، میتوں سے دعوه غیر اسلامی،  بدعت ضلالہ ہے جو برخلاف قرآن و سنت ہے، گمراہی ہے-
  2. بے تکی تاویلات سے اپنی خواہشات نفس کا مطلب نکالنا جو قرآن و سنت کے برخلاف ہو، تحریف قرآن و حدیث ہے جو گناہ کبیرہ ہے- یہ یہودیوں اور مشرکوں کا طریقہ ہے۔ فتنہ پسند لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ جو نظریہ انہوں نے گھڑ لیا ہے اس کو کسی طریقه سے قرآن و حدیث سے سند لے کر اسلام کے نام پر پیش کر سکیں-  کہیں سے کوئی ایک ایسی دلیل ڈھونڈھتے ہیں جو ان کے نقطۂ نظر کے قریب ہو، اگر نہ ملے تو زبردستی آیات اور احادیث سے سیاق و ثبات  سے ہٹ کر اپنی مرضی کا مطلب بنا لیتے ہیں اوراسی پر اڑ جاتے ہیں اگرچہ اس کے خلاف ہزار دلائل موجود ہوں لیکن وہ چونکہ ان کی شیطانی مراد کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے انہیں قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے اور ان کے بارے میں طرح طرح کی الٹی سیدھی تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں، جیسا کہ فتنہ پرور  مرزا قادیانی کر تا تھا- اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا کہ جہنم کا ایندھن بنانا ہے-
  3. کیا گارنٹی ہے کہ کہ کفار شہداء کی تروتازہ میتوں کو دیکھ کر ایمان لے آیئں؟
  4. اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان آپس میں مسلسل جنگیں کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں- مذہبی ، سیاسی اختلاف انسان کی فطرت میں ہے- مسیحی یورپ صدیوں سے آپس میں جنگو و جدل خون خرابہ کرتے رہے ہیں جن میں کروڑوں لوگ مارے گیے- اگر تمام انسان اسلام قبول کر لیں تو کیا دنیا میں امن قائم ہو جایئے گا؟
  5. کیا پہلی اقوام (نوح ،عاد ، ثمود ) معجزات کے بعد ایمان کے آیئں ؟
  6. حضرت موسی علیہ سلام نے نو معجزات دکھایے ، فرعون اور اس کی قوم ایمان کے آئی؟
  7. بنی اسرایئل دریا دو ٹکڑے ہوا راستہ بنا اور پھربھی تسلی نہ ہوئی توبہک کر خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کر دیا (قرآن ٢:١٠٧)-
  8. فضول سوال کر رہے ہو جس طرح ان سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے ان سے کہا تھا کہ ہمیں اعلانیہ خدا دکھا دو،  حالانکہ آیات ِ قرآنیہ کے نزول کے بعد دوسری نشانیوں کا مطالبہ کرنا سیدھے راہ سے بھٹکنا ہے۔(طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱/۵۳۰، در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸،  ۱/۲۶۰-۲۶۱، جلالین مع صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱/۹۹-۱۰۰، ملتقطاً)
  9. پھر بنی اسرایئل بچھڑے  کی پوجا میں لگ گۓ اور عذاب کے مستحق ٹھرے-  
  10. حضرت عیسی علیہ سلام نے کتنے معجزات دکھائے ، مگر بنی اسرایئل نے ان کو مسترد کر دیا اوراپنی طرف سے تو مصلوب کر ہی دیا، الله نے ان کو اٹھا لیا-
  11. شق القمر کے بعد کیا اہل مکّہ مسلمان ہو گیے؟
  12. اسی لیے الله نے معجزات بطور دلیل و حجت بند کر دئیے، اور اسلامی تبلیغ اور دعوت کا طریقه واضح کر دیا- اگرچہ رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) کےبہت سے  معجزات اسلامی رویات کی کتب میں موجود ہیں-
  13. حضرت سلیمان علیہ السلام،  حضرت عزیر علیہ السلام ،اصحاب کہف کے واقعات مخصوس تناظر میں پیش آیے ان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اپنے ،طلب کے خود ساختہ معانی نکالنا جو کسی نے نہ کیا اور قرآن و سنت کی تبلیغ و دعوه کی تعلیمات کے خلاف ، تحریف اور فضول تاویلات کے زمرہ میں اتے ہیں-
  14. شہداء کی حقیقت کا اصل علم صرف الله کو ہے کہ کس شخص کی جہاد میں کیا نیت تھی؟ ایسی  مثالیں ہیں کہ جس کو لوگ بہادر مجاہد سمجھ رہے ہوں وہ مال غنیمت، نام اور بہادری میں لڑ رہا ہو، جہاد فی سبیل اللہ ہوتا ہے- قبر کھود  کسی کے پردہ کو ظاہر کرنا اس کو اور عزیزوں کو اذیت دینا ہے، جو منع ہے احادیث کی رو سے اور اخلاقی طور بھی-
  15. اسلامی تاریخ کے چودہ سو سال میں کسی ایک ، کسی ایک صاحب علم نے کسی نبی ، صدیق ، صالحین یا شہداء کی میتوں کو قبرووں سے نکال  کر بطور حجت و دلیل ، دعوہ  اسلام کے لیے پیش کرنے کی جرات نہیں کی ، کیوں کہ ایسی قبیح حرکت نہ صرف انسانی تہزیب و تمدن، اقدار  کے خلاف ہے بلکہ الله کے قرآن میں واضح احکام اور سنت رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم) ، احادیث اور اصحابہ اکرام کے متواتر تسلسل سے عمل کے خلاف ہے- کوئی ذہنی طور پر مفلوج ، مریض ہی ایسی بات سوچ سکتا ہے-
  16. اسلام ایک برحق اور عقلی دلائل سے بھر پور دین ہے- قرآن الله کا کلام تا قیامت زندہ معجزہ ہے- جو ہر صاحب عقل کے لیے راہ  ہدایت ہے- سنت رسول اللہ (صلی الله علیہ وسلم)  ، صحابہ اکرام کے ذریعے ہمارے پاس احادیث کی شکل میں موجود ہے-   اللہ نے انسان کو عقل اور ہدایت مہیا کر دی اب ہر کوئی آزاد ہے ہدایت اختیار کرے یا گمراہی ، دین اسلام میں کوئی زبردستی نہیں-
  17. اجتہاد ان معاملات میں ہوتا جن کی سند قرآن و سنت میں نہ ہو- مسلم امہ میں اجماع اسلام کی حفاظت کا ایک طریقه ہے گمراہی سے بچنے کا-
………………………………………………………………..
استدلال کا مفصل انفرادی تجزیہ :
بنیادی تجزیہ کے بعد ہر استدلال پر انفرادی تحقیق و تجزیہ پڑھیں:

۱) حضرت عزیر علیہ السلام کی نعش مبارکہ....

۲) حضرت سلیمان علیہ السلام کی نعش مبارکہ .....


۳) زمین کھود کر نشانی نکالنے کی دعوت ....

۴) اللہ انسان کی ذات میں نشانیاں دکھائے گا....

۵) حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک انتقال کے بعد ......


۶) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نعش زمین پر رکھنے کی خواہش....


ۧ۷) جوتے پہننے کی سنت کی خلاف ورزی



۸) لاشوں پر تبلیغ کا اجتہاد

..........................................................

منطقی استدلال

علمِ استدلال میں منطق کی مدد سے کسی بھی چیز کے بارے میں استدلال کرنا، منطقی استدلال کہلاتا ہے۔ انگریزی زبان میں اسے logical reasoning بھی کہا جاتا ہے۔ ایک منطقی استدلال تین چیزوں پر مبنی ہوتا ہے:
  1. ایک شرط اولین (precondition) جس کی مدد سے کسی چیز کے انجام تک پہنچا جا سکے؛ 
  2. ایک اصول (rule) جس کو استعمال کر کہ کسی شرط اولین کو انجام تک پہنچایا جا سکے؛ اور،
  3. ایک انجام (conclusion) جس تک ان دیگر شرائط اور اصولوں کو استعمال کر کہ پہنچا جا سکے۔

ان تین چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منطقی استدلال کی تین بنیادی اقسام ظاہر ہوتی ہیں:
  1. استخراجی استدلال (deductive reasoning)

  2. استقرائی استدلال (inductive reasoning)

  3. قیاسی استدلال (abductive reasoning)


استخراجی استدلال میں کل سے جزو کی طرف جبکہ استقرائی استدلال میں جزو سے کل کی طرف سفر کیا جاتا ہے- 

مزید ... قرآن اور عقل و استدلال




Links 

http://salaamone.com/new-fitnah-rebuttal/
Discussion 2 https://goo.gl/qxvM9p

..........................................................
انڈکس 
  1. English
  2. About
  3. Index

  1. فتنہ- لاشوں پر تبلیغ
  2. معجزات اور قرآن
  3. قرآن اور عقل و استدلال
  4. تفسیر قرآن کے اصول 
  5. میت کے دس حقوق وفرائض
  6. انبیاء و شہداء کی حیات بعد الموت
  7. بدعت ضلاله
  8. نفس کی غلامی 

استدلال باطلہ کا استرداد:
    1. حضرت عزیر علیہ السلام کی سو سالہ موت اور زندگی 
    2. حضرت سلیمان علیہ السلام کی  میت 
    3. قبر کھدائی
    4. انسانی ذات میں معجزات 
    5. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین میں تاخیر 
    6. حضرت حمزہ (رضی  الله) کی میت
    7. جوتے اتار کر نماز اور داڑھی
    8. لاشوں پر تبلیغ کا اجتہاد؟




    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم   ایک انسان جب دنیا میں آتا ہےتواس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے،اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں ایک گمراہی کا راستہ اور دوسرا حق اور نجات کا...[Continue reading...]
    شہداء اور اسلام کی مقدس ہستيوں کی ميتوں کو قبروں سے نکال کر اسلام کی حقانیت کی دلیل کے طور پر کفارکو تبليغ کے لیے استعمال کرنا، نیا فتنہ : کوئی نارمل شخص جس نےتاریخ انسانی اور قرآن و سنت کا سر سری... [Continue reading...]

    انبیاء و شہداء کی حیات بعد الموت کی حقیقت   کل نفس ذائقة الموت     ہر نفس نے موت کا ذائقۃ چکھنا ہے(3:185)     اللہ نے انسانوں کو اپنا پیغام ہدایت پہنچانے کے لیے ایسے عظیم اشخاص کو پسند کیا جنہوں نے اپنی تمام زندگی لوگوں کو اللہ کی... [Continue reading...]




    Comments

    Popular posts from this blog

    معجزات کے دور کا اختتام اور عقل ، حکمت و دانش سے پہچان حق

    End of age of Miracles on demand, Islam is religion of rationality and wisdom