Posts

Showing posts with the label Logical Reasoning

قرآن اور عقل و استدلال

Image
منطقی استدلال ستدلال (inference) کا لفظ سائنسی و احصائی مضامین میں کسی ایسے طریقۂ کار ، عمل یا منطق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ جب دلائل و اسناد کی بنیادوں پر کوئی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہو یا حاصل ہو رہا ہو؛ نتیجہ اخذ کرنے کا یہ کام انسانی بھی ہوسکتا ہے اور آلاتی (جیسے استدلالی محرکیہ (inference engine)) بھی ہوسکتا ہے؛ یعنی اگر محض مشاہداتی یا نظر آنے والے عوامل کی بنیادوں پر نتائج اخذ کرنے کے بجائے منطق و شواہد و دلائل کو بنیاد بنایا جائے تو اسے استدلال کہتے ہیں۔ Informally, two kinds of logical reasoning can  be distinguished in addition to formal  deduction: induction and abduction. Given a  precondition or premise, a conclusion or  logical consequence and a rule or material  conditional that implies the conclusion given  the precondition, one can explain that: [Keep reading ....] ...................................... Quran  repeatedly emphases and urge the people to use their intellect to understand its message.  Blind fai...

Quran: Intellect and Reason

Image
The difference between human and animals is the 'intellect', the ability to learn and reason; the capacity for knowledge and understanding. intellect enables man to think rationally and discern right from wrong, truth from falsehood.  قرآن اور عقل و استدلال :  قرآن ۶۰ سے زیادہ مقامات پر عقل و فکر، شعور و تدبر اور آگاہی و بصیرت کی بات کرتا ہے اور ایسا دنیا کی کسی اور مذہبی کتاب میں نہیں ملتا۔ کسی بھی مذہبی کتاب میں عقل و برہان پر اتنا زور نہیں دیا گیا جب کہ قرآن اپنے مخالفین کو واضح طور پر برہان لانے کی دعوت دیتا ہے  اور کہتا ہے اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو دلیل و برہان پیش کرو(ھَاتُوا بُرھَانَکُم اِنکُنتُم صٰدِقِینَ ) قرآن کا اتنا زیادہ عقل و منطق اور غوروفکر پر زور دینے کاایک مطلب یہ سمجھانا بھی ہے کہ عقل استعمال کرنے کا وہاں پر ہی کہا جاتا ہے جب کوئی چیز نظر نہ آتی ہو اور اس کے ظاہر  سے باطن کی طرف عقل کے ذریعے سفر کرنے کی ضرورت ہوتی ہو۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن ہمیں ظاہر سے اوپر اٹھ کر اور ظاہر پرستی کو چھوڑ کر گہرائیوں میں جا کر حقائق تلا...